انہوں نے سوالیہ نظروں سے عائشہ ، لائبہ اور طیبہ کی طرف
دیکھا اور پو چھا آپ لوگ آج خاموش کیوں ہو ؟
جواب نہ پاکر انہوں نے بڑی بیٹی کو مخاطب کیا اور دوبارہ
سوال کیا عائشہ بیٹا کیا سوچ رہی ہو؟
عائشہ نے طیبہ کی طرف دیکھا اور شرمندہ شرمندہ سا چہرہ واپس
نیچے جھکا لیا ، سدرہ بولی پاپا آپی عائشہ نے طیبہ کو مارا ہے ۔
مارا ہے وہ کیوں ؟عارف صاحب نے عائشہ اور طیبہ کے چہرے پر
غم و غصہ کے اثرات دیکھے تھے ۔
پاپا جب آپ آئے تو
آپی عائشہ نے کہا چھوڑو اب موبائل اور سب نیچے چلو مگر آپی طیبہ ڈرامہ
دیکھ رہی تھی وہ کہنے لگیں میں کچھ دیر میں آؤں گی ۔آپی عائشہ نے کہا میں نے آپ
کو دن میں موبائل دیا تھا ۔اب بس اور نہیں چھوڑو مگر طیبہ مانی ہی نہیں تو آپی
عائشہ نے اسے تھپڑ ماردیا ، سدرہ نے پورے معاملے کی روداد عارف صاحب تک پہنچا دی ۔
پاپا آپی عائشہ ہمیشہ ایسے ہی کر تی ہیں اور مارتی بھی ہیں
۔ طیبہ نے روہانسی شکل بنا کر اپنے چہرے کے نشانات دکھاتے ہوئے کہا ۔بابا بولے
عائشہ بیٹا غلطی کرنے سے پہلے سوچتے ہیں ، آئندہ احتیاط کریں ، ایسے مت مارا کریں
اور طیبہ آپ اپنی آپی کو معاف کردو۔
میں کیوں معاف کروں پاپا ،آپی نے کونسا معافی مانگی ہے
؟طیبہ نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
طیبہ بری بات ہے بیٹا ،وہ آپ سے بڑی ہیں ، کیا اچھا لگے گا
کہ وہ آپ سے معافی مانگیں ؟آپ خود ہی معاف کر دو ۔ پاپا نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
سدرہ بولی پاپا جی آپی عائشہ تو مجھ سے معافی مانگتی رہتی
ہیں ۔آپ سے کیوں مانگتی ہیں ؟پاپا نے حیرت سے پو چھا ۔جب کبھی وہ مجھے غصے سے
ڈانٹتی ہیں یا مارتی ہیں تو پھر بعد میں مجھ سے معافی مانگ لیتی ہیں ۔ سدرہ نے جھٹ
سے بولی۔سدرہ یہ اچھی بات ہے کیا؟آپ کو ایسا نہیں کر نا چاہییے۔
پاپا میں کونسا خو د کہتی ہوں ؟سدرہ نے گھبراتے ہوئے کہا۔
تو پھر بھی آپ خو د ہی معاف کر دیا کرو اور کہا کرو آپی پریشان نہ ہوں ، میں نے
آپ کو معاف کر دیا ہے ،عارف صاحب نے محبت سے سمجھایا ۔
پاپا جی لیکن اگر میری غلطی ہو اور وہ آگے سے کہہ دیں کہ
میں نے تو آپ کی ہی غلطی پر مارا ہے ۔اچھا تو میں سمجھ گئی ۔میں خو د ہی اپنی
غلطی مان لوں گی اور آپی سے خو د اپنی غلطی کی سوری کر لوں گی ، سدرہ نے خود ہی
سوال اور پھر جواب دیتے ہوئے کہا۔
چلیں عائشہ طیبہ سے ہاتھ ملائیں ،طیبہ آپ بھی آپی سے ہاتھ
ملاؤ ،مسکرا کر سلام لو ۔آپ کو بتایا تھا ناں میں نے کہ جو جھگڑے کے بعد سلام میں
پہل کرتا ہے اسے زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے اب دیکھتے ہیں آج کون زیادہ اجر لیتا
ہے ۔
میں لوں گی ،دونوں ایک ساتھ بولیں اور ایک دوسرے کی طرف
مسکرا کر دیکھتے ہوئے سلام کے لئے ہاتھ بڑھا دئیے ۔ماشااللہ یہ تو آپ دونوں نے
برابر کا ثواب کما لیا ، عارف صاحب نے بیٹیوں کی طرف شفقت و محبت سے دیکھتے ہوئے
کہا ۔
ان دونوں کی آپس کی ناراضی سے ماحول میں خاموشی اور تناؤ
تھا وہ ختم ہوگیا اور وہ سب مل کر پاپا کے کان کھانے میں مصروف ہوگئیں ۔آخر میں
عارف صاحب نے نشست برخاست کرنے سے پہلے پھر بیٹیوں کی اچھے عمل پر حوصلہ افزائی کی
اور برائی سے بچنے کی تلقین کی ۔انہوں نے کہا بیٹا ہم سب سے غلطیاں اور گناہ ہوتے
ہیں مگر سب سے بہترین وہ ہے جو اپنی غلطی مان کر اصلاح کر لے ۔تو مجھے امید ہے
عائشہ آئندہ آپ بہنوں پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گی اور انہیں پیار سے سمجھائیں گی ۔
جی پاپا انشا اللہ میں اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی پوری کو
شش کروں گی ،عائشہ نے آئندہ خیال رکھنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ۔
شابا ش ! اور بیٹا ہم سب کو اللہ تعالی سے معافی چاہیے تو
اللہ چاہتا ہے ہم اس کے بندوں کی خطا ؤں کو معاف کر دیا کریں ۔اس لئے کوئی جان
بوجھ کر یا انجانے میں ہمارے ساتھ ناانصافی کر دے ، خواہ گھر میں ہو یا سکول میں
تو آپ سب نے اللہ کی رضا کے لئے اسے معاف کر دینا ہے ۔
پاپا جی ،پاپا جی یہ بات تو مجھے پہلے ہی پتا ہے اور میں
اکثر معاف کر دیتی ہوں ۔دیکھیں تبھی تو میرے جھگڑے کو کوئی معاملہ آپ تک نہیں
آیا ۔اور میں نے نمازیں بھی ساری پڑھی ہیں ، چاہے تو میری ڈائری دیکھ لیں ۔اب
لائبہ نے بھی فٹ سے اپنی اچھائی پاپا جی تک پہنچائی ،تاکہ ہمیشہ کی طرح زیادہ
انعام حاصل کر سکے ۔ عارف صاحب نے اس اس طرح جلدی سے کہنے پر مسکرا دیئے تو عائشہ
،طیبہ سدرہ حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگیں جو آج بھی انعام وصول کر نے والی
تھی ۔


0 تبصرے