جب تک حاکم کی عظمت نہ ہو حکم کی عظمت دل میں نہیں آ سکتی.حاکم کی عظمت ہو گی تو حکم کی عظمت آیئے گی. ایک ایس پی ہیں فیصل آباد میں لگے ہوئے تھے انکا نام عبدالخالق تھا.ہم نے ایسی بات کرتے کرتے ان کو تین دن کے لئے نکالا پھر انکی بھی ٹرانسفر ہوگئی پھر انہوں نے چار مہینے لگائے.میرا کلاس فیلو تھا لاہور سکول میں ہم اکٹھے پڑھتے تھے.
ہم دونوں اسکو ملنے کے لئے گئے.وہ جو پولیس کا بڑا تھانہ ہے اسکا ایک
دروازہ بند رہتا ہے اور ایک دروازہ کھلا رہتا ہے عوام کے لئے ہمیں وہ قریب تھا ہم
وہاں سے اندر جانے لگے سامنے سپاہی کھڑا تھا تو عبدالخالق صاحب نے کہا بھائی
دروازہ کھولنا.اسنے دونوں کو دیکھا صوفی صاحب نظر آئے.اس نے کہا اُتوں آؤ(یعنی
اوپر سے آؤ) انہوں نے کہا بھائی تیری بڑی مہربانی کھول دے دروازہ.اسنے کہا سنیا
نہیں بند ہے اُتوں آؤ۔
پہلےتوتبلیغی
اصول اپنا یا بھائی بڑی مہربانی کھول دے جب وہ نہ مانا تو کہا میں عبدالخالق ایس
پی پھر وہ ٹھک سلو ٹ زور دار چابی بھی نکل آئی اور تالہ بھی کھل گیا دروازہ بھی کھل گیا کبھی آگے اور کبھی پیچھے
چلےسرسر ۔ بعدمیں میں نے عبدالخالق صاحب سے کہا آج مجھے ایک بڑی بات سمجھ آئی تیری
برکت سے ۔ کہنے لگا کیا ۔ میں نے کہا جب تک حاکم کی عظمت نہیں حکم کی عظمت دل میں
نہیں آسکتی۔
اس
نے پہلے آپ کو کہ دیا کہ اتوں آؤ پھرسلوٹ مار دیا پھر تالا کھول دیا پھر دروازہ
کھول دیا پھر آگےپیچھے بھاگ رہاکیوں ۔پہلے تمہیں صو فی سمجھ رہا تھا پھر تمہیں ایس
پی سمجھا ۔ کہ یہ ایس پی تو میرا بہت کچھ کر سکتا ہے لہذا سارا وجود خو شامد میں
ڈھل گیا بس یہاں سے کٹ کر اللہ اوررسول کی خو شامد کرنے لگ جائیں توسارا مسئلہ حل
ہو جائے گا ۔
اللہ
اوراس کےرسول کی عظمت پیدا کئے بغیر اطاعت نہیں آسکتی ۔تو بھائی ایک تربیت ہوتی ہے
آپ نے سپاہی بننے کی تربیت لی ہے ، ہم مسلمان بننے کی تربیت لیں مسلمان کون ہوتا
ہے؟ جو اللہ کےحکم پر اٹھتا ہے تو بھائی یہ دو باتیں ہو گئیں کہ اللہ کی مانیں
کیسے مانیں ۔اللہ کے حبیب کے طریقے پر مانیں ۔
اگر
آپ یہ دو باتیں سیکھ لیں تو میں آ پ کو ممبررسول پر قسم کھا کے کہتا ہوں کہ آپ کا
رات کو گشت کرنا اورہماراتہجد پڑھنا آپ کے گشت کا اجر کل قیامت کے دن ہماری تہجد
سے بڑھ جائے گا ۔
آپ کو
ٹریفک کنٹرول کرنا گر می میں پسینوں پہ پسینے بہہ رہےہیں بر ے حال ہو رہے ہیں تھک
رہے ہیں ۔میں آپ کو قسم کھا کے کہتا ہوں ہمارا سارا دن قرآن پڑھنا اورآپ کا دو
گھنٹے چوک میں کھڑے ہو کے ڈیوٹی دینا سارے دن کے قرآن پڑھنے سے زیادہ افضل ہے ۔یہ
د و باتیں پہلے سیکھیں یہ شرط ہے۔
یہ جو
دو محکمے ہیں فوج اورپولیس یہ براہ راست عبادت ہے ۔پولیس کا محکمہ سب سے پہلے حضرت
عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے قائم کیا تھا تو آپ کی بنیاد حضرت عمر نے رکھی ہے کیسے
پاک ہاتھوں سے آپ کے محکمے کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔اگر یہ دو باتیں پیدا ہو جائیں
تو آپ راتوں کو پھر نا مشقت اٹھانا جہاد فی سبیل اللہ کہلائے گا اورآپ کا ان
ظالموں کے ہاتھوں شہید ہو جانا سارے گناہوں کی تطہیر کروا کے جنت الفردوس کے عالی
درجات تک پہنچائے گایہ کوئی معمولی محکمہ نہیں ہے۔
سارے
پولیس والوں کو برا سمجھتے ہیں ۔ارے پولیس والے تو فرشتے بن جائیں اگر دو باتیں
سیکھ لیں تو تہجد گزار سے آگے کھڑے ہوں گے قیامت کے دن ۔سارے دن کی تسبیح پھیرنے
والے سارے دن کی نفلیں پرھنے والوں سے پتہ چلےگا وہ سپا ہی آگے جارہا ہے ۔جنت کے
عالیشان درجوں میں ارے یہ کیا ہو رہا ہے ۔بھائی یہ مسلمان کی جان مال کی حفاظت کیلئے کھڑا تھا تم اپنی
عبادت کرتے تھے ۔تم اور یہ برابر کیسے ہوسکتے ہیں ۔سارے لوگ آپ کو برا سمجھتے ہیں
، آپ بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم تو بھائی ہیں ہی ایسے ۔نہیں آپ بڑے قیمتی ہیں ۔اپنی
پہچان کریں طریقہ ٹھیک ہو بس ۔ یہ براہ راست عبادت ہے ۔
تجارت میں نیت کرنی پڑے گی تب عبادت بنے گی،زراعت میں نیت کرنی پڑے گی تب عبادت بنے گی ، پولیس اور فوج براہ راست عبادت ہے ۔لیکن یہ جو وہ باتیں جو میں پہلے عرض کیں ہیں ان کا سیکھا ہو ا ہو نا ضرور ی ہے ۔پھراللہ سے آپ کے دو نفل وہ کام
کروائیں گے جو کلاشنکو فیں بھی نہیں کرواسکتیں۔



0 تبصرے