ہوشیار انجینئر👨

clever engineer

شاہ جہاں بادشاہ کو خوبصورت اور شان دار عمارتیں🏢 بنوانے کا بڑا شو ق تھا۔ ٹھٹھہ کی شاہ جہانی مسجد دہلی کا لال قلعہ اور سب سے بڑھ کر 

دنیا کی خوب صورت عمارت تاج محل اسکے اس ذوق کا شان دار نمونہ ہیں ۔ شاہ جہاں نے جب اپنی بیوی 👩ممتاز محل کی قبر پر تاج محل کی 

تعمیر کا فیصلہ کیا تو انجینئروں نے کئی نقشے تیار کئے  ۔ کہتے ہیں کہ خو د بادشاہ نے خواب میں ایک مقبرہ دیکھا تھا جو اسے بہت پسند آیا تھا ۔اتفاق 

سے ایک انجینئر کا نقشہ ٹھیک اس کے مطابق نکلا ۔ یہی جب بن گیا تو تاج محل کہلایا ۔

معاشرےکا تاریک پہلو :۔بچوں کی تعلیم کی خاطر جسم فروشیکرنے والی لاہور کی خاتون

انجینئر نے دبے الفاظ میں بادشاہ کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اس عمارت کی تعمیر پر بہت روپے خرچ ہوں گے اور وقت لگے گا ۔اسے ڈر تھا کہ 

کہیں بادشاہ اکتا کر اور خر چ سے گھبرا کر عمارت ادھوری نہ چھڑوا دے ۔مگر جب بادشاہ نے تعمیر شروع کرنے کا حکم دیا تو انجینئر نے کئی لاکھ 

روپے پیشگی طلب کیئے ۔ اس زمانے میں نوٹ نہیں ہوتے تھے ۔ہزار ہزار روپے کی موٹی موٹی تھیلیاں ہوتی تھیں ۔بادشاہ نے انجینئر کو خزانے 

سے یہ تھیلیاں دلوادیں ۔

taj mehal 1

اگلے روز انجینئر نے وہ تھیلیاں ایک کشتی میں لدوائیں اور دریائے جمنا میں اس جگہ جہاں آج تاج محل کھڑا ہے ، پہنچ کر بہت سی تھیلیاں پانی میں 

پھنکوا دیں ۔اگلی صبح بھی اس نے یہی کیا ۔یہ بات بادشاہ تک پہنچ گئی جسے سن کر وہ سخت ناراض ہوا اور اسنے انجینئر کو طلب کرلیا بادشاہ سخت غصے میں تھا ۔اس نے انجیئنر سے آتے ہی پوچھا ،

"تم نے روپوں کی وہ تھیلیاں پانی میں کیوں پھنکوائیں ؟

انجینئر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ،

"حضور برانہ مانیں ۔تاج محل جیسی عمارت کی تعمیر کے لئے آپ کو روپیہ اسی طرح خر چ کرنا ہو گا اور بڑی ہمت سے کام لینا ہو گا ۔میں توصر 

ف آپ کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا ۔آپ کا روپیہ محفوظ ہے ۔ان تھیلیوں میں پتھر بھرے تھے ،نکلوا کر دیکھ لیجئے "

انجینئر کی بات سن کر بادشاہ سخت شرمندہ ہوا اوراس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی اس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا ۔آخر کار انجینئر کی 

محنت اور بادشاہ کے حوصلے سے دنیاک کی یہ شان دار اور حسین عمارت مکمل ہو گئی ۔ سچ ہے بڑے کا م کے لئے بڑے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

Taj Mehal2


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے